🕌 مسجد قبا 🕌
"جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے"
(سورۃ التوبہ، آیت 108)
📜 تعارف
مسجد قبا (عربی: مَسْجِد قُبَاء) دنیا کی پہلی مسجد ہے جسے 622 عیسوی (1 ہجری) میں تعمیر کیا گیا۔ یہ مدینہ منورہ سے تقریباً 5 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس مسجد کی بنیاد خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے دوران رکھی تھی۔
🏛️ تاریخی پس منظر
ہجرت کے دوران، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لا رہے تھے، تو آپ نے 12 ربیع الاول کو مقام قبا میں قیام فرمایا۔ یہاں آپ نے 14 دن گزارے اور اس دوران اس مسجد کی بنیاد رکھی۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے پتھر اٹھائے اور صحابہ کرام کے ساتھ مل کر اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔[1]
🌟 قرآن و حدیث میں فضیلت
📖 قرآن مجید میں
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں اس مسجد کا ذکر کیا ہے:
لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ
"یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، اس کے قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو (نماز پڑھو)"
(سورۃ التوبہ، آیت 108)[2]
💠 حدیث مبارکہ میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قبا آ کر دو رکعت نماز پڑھے، اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔"
(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1401)[3]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے (ہر سنیچر یا پیر کے روز) مسجد قبا تشریف لے جاتے تھے — کبھی پیدل اور کبھی سواری پر — اور وہاں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔[4]
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے مسجد قبا تشریف لے جاتے تھے۔[5]
🏗️ تعمیر و توسیع (تاریخی ادوار)
مسجد قبا کو مختلف اسلامی ادوار میں توسیع اور تزئین و آرائش کا شرف حاصل رہا ہے:[6]
📌 خلافت راشدہ (644-656 عیسوی) — حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں مرمت اور توسیع
📌 خلافت امویہ (705-715 عیسوی) — خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پہلی بڑی توسیع کی
📌 خلافت عباسیہ — خلیفہ المہدی (775-785 عیسوی) اور خلیفہ المقتدر باللہ (908-932 عیسوی) کے ادوار میں تزئین
📌 سلطنت عثمانیہ — سلطان سلیمان القانونی (1520-1566) اور سلطان عبدالمجید اول (1839-1861) نے تجدید کی
🕌 جدید تعمیر — 1986 میں شاہی توسیع
شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں 1986 میں ایک عظیم توسیعی منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس منصوبے پر 90 ملین ریال لاگت آئی اور اس کے بعد مسجد کی گنجائش بڑھ کر 20,000 سے زائد نمازیوں کی ہو گئی۔ اس کے علاوہ، 2018 میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مزید توسیع کا منصوبہ شروع کیا جس کے بعد گنجائش 30,000 سے زیادہ ہو گئی۔[7]
🎨 معماری اور خصوصیات
جدید مسجد قبا اپنے شاندار اسلامی فن تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے:[8]
✨ 6 بڑے گنبد — جو ستونوں پر قائم ہیں اور ایک مرکزی صحن کے گرد ترتیب دیئے گئے ہیں
✨ 4 مینار — اصل میں صرف ایک مینار تھا، جدید توسیع میں تین مزید شامل کیے گئے، ہر مینار کی اونچائی 47 میٹر ہے
✨ 56 چھوٹے گنبد — جو مسجد کے ارد گرد محیط ہیں
✨ 7 داخلی دروازے — جن میں سے تین اہم دروازے ہیں
✨ سفید، سیاہ اور سرخ سنگ مرمر — صحن اور اندرونی حصوں میں استعمال ہوا ہے
🤲 مسجد قبا کی زیارت اور فضائل
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد قبا کی زیارت کو بہت اہمیت دی ہے۔ آپ نے فرمایا:
"جو کوئی مسجد قبا میں نماز پڑھے گا، اسے ایک عمرے کا ثواب ملے گا۔"
(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1401؛ سنن نسائی، حدیث نمبر: 699)[9]
یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں زائرین حج اور عمرہ کے دوران اس مسجد کو ضرور حاضر ہوتے ہیں اور یہاں دو رکعت نفل ادا کرتے ہیں۔
🏆 مسجد قبا کی اہمیت — خلاصہ
✅ اسلام کی پہلی مسجد جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوائی
✅ قرآن مجید میں اسے "مسجد الاسس علی التقوی" کا درجہ ملا
✅ اس میں 2 رکعت نماز ایک عمرہ کے برابر ہے
✅ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے یہاں تشریف لاتے تھے
🗺️ مقام اور رسائی
مسجد قبا مدینہ منورہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ مسجد نبوی سے یہاں تک پہنچنے میں تقریباً 10 منٹ لگتے ہیں۔ سعودی حکومت نے زائرین کے لیے جدید ترین سہولیات فراہم کی ہیں، جن میں وسیع پارکنگ، وضو خانے اور خاص طور پر معذور افراد کے لیے ریمپ شامل ہیں۔
🕋 اللہ ہمیں مسجد قبا کی زیارت اور یہاں نماز پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین 🤲
📚 حوالہ جات (References)
[1] ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، جلد 1، صفحہ 491-493
[2] القرآن المجید، سورۃ التوبہ (9): آیت 108
[3] سنن ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلوۃ، باب فضل مسجد قباء، حدیث نمبر: 1401
[4] صحیح البخاری، کتاب فضل الصلوۃ، باب مسجد قباء، حدیث نمبر: 1193
[5] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل مسجد قباء، حدیث نمبر: 1399
[6] السمحودی، وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ، جلد 2، صفحہ 450-460
[7] سعودی پریس ایجنسی (SPA)، 2018، "شاہ سلمان کی مسجد قبا کی توسیع کا افتتاح"
[8] وزارت اسلامی امور، سعودی عرب — مسجد قبا آفیشل گائیڈ
[9] سنن النسائی، کتاب المساجد، باب فضل مسجد قباء، حدیث نمبر: 699
📢 یہ تحریر شیئر کریں تاکہ دوسرے مسلمان بھی مسجد قبا کی فضیلت سے مستفید ہوں 💚
© تمام حقوق بحق اشاعت محفوظ — بشکریہ حوالہ جات کے ساتھ