جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے ۔
ایک بیج کو دیکھ کر کاشتکار یہ حکم لگا سکتا ہے کہ اس سے کو ن سا درخت پیدا ہوگا ۔اس کے پھل پھول اور پتے کیسے ہوں گے ٬اس کا پھیلاؤ اور بڑھاؤکتنا ہو گا ۔اسی طرح ایک طالب علم کی سعی و کوشش کو دیکھ کر اس کی کامیابی پر ٬اور دوسرے کی آرام طلبی و غفلت کو دیکھ کر اس کی ناکامی پر حکم لگایا جاسکتا ہے ٬کیونکہ ادائل اواخر کے اور مقدمات ٬نتائج کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔لہٰذا کسی چیز کا انجام سجھائی نہ دیتا ہو تو اس کی ابتدائ کو دیکھا جائے ۔اگر ابتدا بری ہوگی تو انتہا بھی بری ہو گی اور اگر ابتدا اچھی ہوگی تو انتہا بھی اچھی ہوگی ۔
سالے کہ نکواست ازبہار ش پیدا