عقلمند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور بیوقوف کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ جملہ عجیب و پاکیزہ معنی کا حامل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ عقلمند اس وقت زبان کھولتا ہے جب دل میں سوچ بچار اور غوروفکر سے نتیجہ اخذ کر لیتا ہے لیکن بےوقوف بے سوچے سمجھے جو منہ میں آتا ہے کہہ گزرتا ہے۔ اس طرح گویا عقلمند کی زبان اس کے دل کے تابع ہے اور بیوقوف کا دل اس کی زبان کے تابع ہے۔