پردہ کی اہمیت اور سیرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا - Mujarab Duas from Quran and Hadith

Breaking

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Tuesday, March 31, 2026

پردہ کی اہمیت اور سیرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا

🕊️ پردہ — اسلامی تعلیمات اور سیرت فاطمیہ کی روشنی میں

علامہ سید کلب جواد نقوی کے قلم سے

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ

(سورۃ الاحزاب — آیت 53)

📖 پردہ — دین اسلام کی اہم ضرورت


 

 دین اسلام کی ایک اہم ضرورت کا نام پردہ ہے۔ جان بوجھ کر اگر کوئی اس کا انکار کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو سکتا ہے۔ پردہ قلعہ ہے قید نہیں، عفت و پاکدامنی ہے پابندی نہیں، عز و شرف اور متانت ہے پسماندگی اور ذلت نہیں، خداوند عالم کا حکم اور فاطمۃ الزہراء کی سیرت ہے لہٰذا دشمنوں کے پروپیگنڈے اور ان کی شماتت کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے۔

مسلمان خاتون کے لیے تو پردہ باعث عز و افتخار ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمۃ الزہرا صلوات اللہ علیہا کو حجاب اور پردہ سے محبت تھی۔ اگر مسلمان خاتون صدیقہ کبریٰ کی سیرت کا بغور مطالعہ کرے تو وہ مغربی تبلیغ سے متاثر ہو کر پردہ کو پابندی اور ذلت کا سبب نہیں سمجھے گی بلکہ حجاب کو اپنے لیے طرۂ امتیاز سمجھتے ہوئے دیگر خواتین کو بھی با حجاب رہنے کی تلقین کرے گی اور ان کو باوقار زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھائے گی۔

💎 پردہ — بہترین زیور

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سے پوچھا:

اَىُّ شَىءٍ خَىرٌ لِلْمَرْأَةِ؟

عورت کے لیے بہترین چیز کیا ہے؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَنْ لَا تَرَىٰ رَجُلًا

عورت کے لیے سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ وہ کسی نامحرم مرد کو نہ دیکھے۔

یہ جواب سن کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا پیار آیا کہ آپ نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور فرمایا:

ذُرِّيَّةٌ بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ

اس حدیث شریف میں عورت کے لیے بہترین چیز یہ بتائی گئی ہے کہ وہ نامحرم کو نہ دیکھے۔ ایک دوسری روایت میں حضرت زہرا علیہا السلام نے فرمایا کہ عورت کا کمال یہ ہے کہ کوئی مرد اس کی خوشبو بھی محسوس نہ کر پائے۔

لہٰذا نابینا والی مشہور روایت میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کی اور نابینا کی ہمراہی کا تذکرہ کیا تو گذشتہ معیار کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فرمایا:

إِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَانِي أَرَاهُ وَهُوَ يَشَمُّ الرِّيحَ

اگر وہ مجھے نہیں دیکھ رہا ہے تو کیا ہوا، میں تو اسے دیکھ لوں گی اور وہ میری خوشبو محسوس کر لے گا۔

اس جواب میں رسالت و نبوت کے ایسے مقاصد پوشیدہ تھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً فرمایا:

أَشْهَدُ أَنَّكِ بُضْعَةٌ مِنِّي

میں گواہی دیتا ہوں کہ تم میرے وجود کا ایک حصہ ہو۔

🌿 مقصد خلقت

تمام مخلوقات خصوصاً انسان کی خلقت کا آخری مقصد خداوند متعال کا تقرب ہے۔ قرآن مجید میں خلقت کا مقصد جو عبادت بیان کیا گیا ہے وہ بھی تقرب خدائے متعال کو بیان کر رہا ہے۔ جو انسان جس قدر خدا سے مقرب ہو گا اتنا ہی محبوب بارگاہ الٰہی ہو گا۔

اس مقصد تک رسائی کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ انسان ربانی دعوے یا چند اچھے کام انجام دے کر اس درجہ تک پہنچ جائے بلکہ اس درجہ تک پہنچنے کے لیے انسان کو اپنی زندگی کا ہر لمحہ خدا کے لیے وقف کرنا پڑتا ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حقیقت کے پیش نظر اصحاب سے یہ سوال کیا کہ عورت کس وقت اپنے خدا سے سب سے زیادہ نزدیک ہوتی ہے؟ اصحاب میں سے کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ حضرت علی علیہ السلام یہ صورت حال دیکھ کر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس تشریف لائے اور آپ کو ساری داستان سنا دی تو آپ نے فرمایا:

اِرْجِعْ عَلَيْهِ فَأَعْلِمْهُ أَنَّ أَدْنَىٰ مَا تَكُونُ مِنْ رَبِّهَا أَنْ تَلْزَمَ قَعْرَ بَيْتِهَا

جائیے اور بابا سے کہہ دیجیے کہ جب عورت اپنے گھر کے گوشے میں ہوتی ہے تو اس وقت خدا سے سب سے زیادہ نزدیک ہوتی ہے۔

جب حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا علی! یہ آپ کا جواب نہیں ہے تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: فاطمہؐ نے مجھے یہ جواب بتایا ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا:

صَدَقْتَ إِنَّ فَاطِمَةَ بُضْعَةٌ مِنِّي

اس حدیث سے بہت سارے مطالب قابل استفادہ ہیں۔ جس فن کا ماہر ہو اسی سے اس کا سوال کرنا چاہیے۔ عورت سے متعلق سوال کو حضرت علی علیہ السلام نے جزو رسالت سے دریافت کیا۔ حضرت علی علیہ السلام کبھی بھی سوال کے جواب میں پیچھے نہیں رہے، جو سوالات آپ سے مربوط تھے اسے بلا فاصلہ حل کیا اور جو سوالات خود سے مربوط نہیں تھے اسے بالواسطہ جزو رسالت کے ذریعہ حل کیا۔

عورت گھر میں رہ کر مشکل سے مشکل مسئلہ حل کر سکتی ہے۔ ہر وقت گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں ہے بلکہ جس قدر اپنے گھر میں رہے اتنا ہی اپنی خلقت کے مقصد اور خداوند عالم سے نزدیک رہتی ہے۔ البتہ اگر ضرورت ہو تو کامل حجاب کے ساتھ باہر نکلے، جس طرح خطبہ فدک کے لیے حضرت زہرا صلوات اللہ علیہا باہر نکلی تھیں یا نصارائے نجران کے مقابلہ میں سامنے آئی تھیں۔

سیرت فاطمی پر عمل کرنے والی خواتین کو فقط باہر نکلنا یاد نہیں رہنا چاہیے بلکہ باہر نکلنے کا طرز اور انداز بھی مدنظر رہنا چاہیے اور واقعی ضرورت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔

کردار فاطمۃ الزہرا صلوات اللہ علیہا میں حجاب اور پردہ داری کے اتنے باکمال عناصر موجود ہیں کہ مسلمان خاتون اگر صحیح سے اس کا مطالعہ کرے تو وہ کسی بھی سیاسی نعرے کے فریب میں آ کر دھوکہ نہیں کھائے گی۔

اگر خواتین فاطمۃ الزہرا صلوات اللہ علیہا کی اس روایت کا مطالعہ کر لیں جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کی داستان سناتے ہوئے عورتوں کے عذاب کا تذکرہ کیا ہے تو کوئی خاتون بھی بے پردگی کا تصور نہیں کرے گی۔ فقط ان عذابوں میں سے ایک عذاب بعنوان نمونہ پیش کیا جا رہا ہے:

⚠️ جو عورت اپنے بالوں کو نامحرم سے نہیں چھپاتی ہے، قیامت کے دن اپنے بالوں سے لٹکائی جائے گی اور اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔

واضح رہے کہ جو انسان مرد ہو یا عورت اپنے مقصد خلقت کو فراموش کر دے گا اور خداوند عالم سے بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے پردہ کو چھوڑ کر بدحجابی یا بے پردگی کو ترجیح دے گا اور اس کے لیے نئے نئے بہانے تراشے گا تو ایسے انسانوں کے لیے ایسا عذاب کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

😊 فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی خوشحالی

جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے کاموں کو تقسیم کرتے ہوئے باہر کا کام حضرت علی علیہ السلام کے سپرد کیا اور گھر کے اندر کا کام حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حوالے کر دیا، تو حضرت زہرا مرضیہ نے فرمایا:

خدا کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم کہ میں اس تقسیم سے کتنی خوش ہوں کہ پیغمبر نے وہ کام جو مردوں سے مخصوص ہیں جس میں مردوں سے رابطہ ہوتا ہے وہ میرے ذمہ نہیں فرمایا۔

🌸 گل پژمردہ کی مسکراہٹ

مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد زہراؑ مرضیہ کا چین و سکون ہی ختم ہو گیا۔ کبھی آنسو بہانے پر پابندی تو کبھی گھر پر آگ اور لکڑی، کبھی محسن کی شہادت کا غم تو کبھی پہلو شکستگی کا درد۔ انہی غم و الم نے فاطمۃ الزہرا صلوات اللہ علیہا کے گوشت و پوست کو آب کر دیا۔ جسم پر گوشت و پوست کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آنسو اور نالہ و شیون آپ کی زندگی کا اٹوٹ حصہ بن چکا تھا، گل رسالت کی پتیاں بکھر رہی تھیں اور آہستہ آہستہ اس گل پر پژمردگی کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔

بھلا اس موقع پر ہنسی کیا مسکراہٹ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن تاریخ نویسوں نے اس پژمردہ گل رسالت کی مسکراہٹ کا تذکرہ کیا ہے اور بابا کی وفات کے بعد یہ سب سے پہلی مسکراہٹ تھی۔

ہوا یوں کہ زندگی کے آخری لمحات میں جب پہلو کا درد اور بازو کا ورم شدید ہونے لگا تو اسماء سے فرمایا: اسماء! مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگتا کہ عورتوں کو مرنے کے بعد ایک ایسی چیز پر لٹا کر ایک چادر ڈال دی جاتی ہے جس سے ان کے بدن کا حجم نمایاں ہوتا ہے۔

یہ سنتے ہی اسماء نے عرض کیا: بی بی! حبشہ میں ہم نے ایک تابوت دیکھا ہے جس کے اندر میت کو رکھا جاتا ہے۔ پھر اسماء نے وہ تابوت بنا کر دکھایا۔ تاریخ کہتی ہے کہ یہ دیکھ کر فاطمۃ الزہرا کے چہرہ پر مسکراہٹ کے آثار نمایاں ہوئے۔ بعد رسولؐ خدا صدیقہ کبریٰ کے چہرہ پر یہی اول و آخر مسکراہٹ تھی جسے تاریخ نے اپنے سینے پر ثبت کیا۔

مسکراتے ہوئے اسماء سے فرمایا:

اِصْفَعِي لِي مِثْلَهُ، اُسْتُرِينِي، سَتَرَكِ اللَّهُ مِنَ النَّارِ

اے اسماء! میرے لیے بھی ایسا ہی تابوت بنانا، میرے جنازہ کا پردہ کرنا، خدا تمہیں جہنم کی آگ سے پردہ میں رکھے (محفوظ رکھے)۔

صدیقہ کبریٰ کی شہادت کے بعد آپ کو وصیت کے مطابق ایسے ہی تابوت میں رکھا گیا اور تاریخ اسلام میں سب سے پہلی بار تابوت آپ ہی کے لیے استعمال ہوا۔ جب کسی نے معصوم سے پوچھا کہ سب سے پہلے تابوت کس کے لیے بنایا گیا تو آپ نے فرمایا: فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔

🤲 عہد و پیغام

بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے جانسوز اور روح فرسا موقع پر ہم سب کو مل کر اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ اگر اب تک کوتاہیوں کے نتیجے میں ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بے پردہ تھیں تو آج کے بعد وہ کبھی بے پردہ نہیں رہیں گی۔

تمام خواتین کو بھی مصمم ارادہ کرنا چاہیے کہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ہم خود بھی با حجاب رہیں اور دوسری خواتین کو بھی پردہ کی افادیت بیان کر کے انہیں با حجاب رہنے کی تلقین کریں گی۔

🤲 اللہ ہمیں سیرت فاطمیہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

📚 ماخذ: ماہنامہ شعاع عمل لکھنؤ اُردو و ہندی، ناشر: نور ہدایت فائونڈیشن، امام باڑہ غفران مآب، مولانا کلب حسین روڈ، چوک، لکھنؤ۔۳ (یوپی) انڈیا

علامہ سید کلب جواد نقوی کے قلم سے — بشکریہ حوالہ جات کے ساتھ

📢 یہ تحریر شیئر کریں تاکہ دوسری بہنیں بھی پردہ کی فضیلت سے مستفید ہوں 💚

# پردہ — اسلامی تعلیمات اور سیرت فاطمیہ کی روشنی میں  

sponsors

Post Top Ad

Responsive Ads Here