📌 سوشل میڈیا اور خبر کی تحقیق — اسلامی حکم
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ Facebook، WhatsApp، Instagram اور X جیسے پلیٹ فارمز پر ہر لمحہ ہزاروں خبریں، ویڈیوز اور پیغامات گردش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر خبر سچ ہوتی ہے؟ اور اسلام ہمیں اس بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟
📖 قرآن کریم کی رہنمائی
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(6)
(سورۃ الحجرات: 6)
ترجمہ: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی خبر کو قبول کرنا یا آگے پھیلانا درست نہیں۔ آج کے سوشل میڈیا کے ماحول میں یہ حکم پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
⚠️ بغیر تحقیق خبر پھیلانے کے نقصانات
- جھوٹ اور افواہوں کا فروغ
- معاشرے میں بداعتمادی اور نفرت
- بے گناہ لوگوں کی عزت کو نقصان
- دینی و سیاسی انتشار
ایک کلک یا فارورڈ بعض اوقات کسی کی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔
🕊️ حدیث کی روشنی میں
"کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔"
(صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہر بات آگے پہنچانا دیانت داری نہیں بلکہ غیر ذمہ داری ہو سکتی ہے۔
📱 سوشل میڈیا استعمال کرنے والے مسلمانوں کے لیے چند رہنما اصول
- ✔️ خبر کا مستند ذریعہ چیک کریں
- ✔️ جذباتی مواد کو فوراً شیئر نہ کریں
- ✔️ مذہبی یا فرقہ وارانہ مواد میں خاص احتیاط کریں
- ✔️ اگر خبر سے کسی کی عزت متاثر ہو رہی ہو تو ہرگز شیئر نہ کریں
- ✔️ ہمیشہ سچ، خیر اور اصلاح کو ترجیح دیں
🌙 اسلام کا مزاج: ذمہ داری اور امانت
اسلام ہمیں صرف عبادات نہیں سکھاتا بلکہ ذمہ دار شہری بننے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ زبان کی حفاظت کی طرح انگلیوں کی حفاظت بھی ضروری ہے، کیونکہ آج کل گناہ انگلیوں سے بھی ہو سکتے ہیں۔
✨ اختتامی پیغام
سوشل میڈیا ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو سامنے رکھیں تو یہی پلیٹ فارم دعوتِ دین، خیر خواہی اور مثبت پیغام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو پہچاننے، تحقیق کرنے اور صرف حق بات آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
Article Generated by AI (chatgpt.com)
