




آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی
آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (پیدائش 1930) عراق میں مقیم ممتاز شیعہ مرجع تقلید اور فقیہ ہیں۔ وہ حوزہ علمیہ نجف کے سب سے بزرگ مراجع میں شمار ہوتے ہیں اور دنیا بھر کے لاکھوں شیعوں کے دینی مرجع ہیں۔ ان کا اثر عراق کی سیاست، سماج اور مذہبی قیادت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
کلیدی معلومات
پیدائش: 4 اگست 1930ء، مشہد، ایران
مرکزِ قیام: نجف اشرف، عراق
مرجعیت کا آغاز: 1992ء (بعد از وفات آیت اللہ ابوالقاسم خوئی)
اہم فتویٰ: 2014ء میں داعش کے خلاف واجب کفائی جہاد کا اعلان
اہم ملاقات: 2021ء میں پاپائے فرانسس سے نجف میں تاریخی ملاقات
علمی پس منظر
سیستانی نے ابتدائی تعلیم مشہد میں حاصل کی، بعد ازاں قم اور نجف میں فقہ و اصول کے جید اساتذہ، بشمول آیت اللہ محمد حجت کوہ کمرہ ای، حسین بروجردی اور ابوالقاسم خوئی سے کسب علم کیا۔ 31 سال کی عمر میں انہیں اجتہاد کی اجازت ملی۔ ان کی تالیفات میں منہاج الصالحین، قاعدہ لا ضرر و لا ضرار اور العروۃ الوثقیٰ پر تعلیقات شامل ہیں۔
مرجعیت و اثر
خوئی کی وفات کے بعد 1990ء کی دہائی میں وہ مرجع تقلید کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی رہنمائی نے صدام حسین کے بعد عراق کی نئی آئینی و سیاسی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے انتخابات اور آئین سازی میں عوامی شرکت پر زور دیا اور مسلح تصادم سے گریز کی پالیسی اپنائی۔
سماجی و فلاحی خدمات
سیستانی کے دفاتر نجف، قم، لندن، بیروت اور استنبول میں سرگرم ہیں۔ ان کے زیرِ سرپرستی متعدد تعلیمی و فلاحی مراکز، یتیم خانوں اور اسپتالوں کا جال قائم ہے۔ تنظیم "العین" یتیموں کی سرپرستی کرتی ہے، جب کہ بیروت میں امام علی (ع) سینٹر ان کے علمی اداروں میں نمایاں ہے (Sistani)۔
جدید دور کا کردار
2014ء میں ان کے فتویٰ سے "الحشد الشعبی" تشکیل پائی جس نے داعش کے خلاف عراقی دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ 2021ء میں پاپائے فرانسس سے ملاقات بین المذاہب مکالمے کی تاریخی مثال بنی (UNHEW)۔ 2025ء میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا، جو مرزا حسن شیرازی کے خانوادے سے تعلق رکھتی تھیں (ShiaWaves)۔
اخلاقی تعلیمات
سیستانی نے نوجوانوں کے لیے ایمان، اخلاق، خدمتِ خلق اور علم کی جستجو پر مبنی آٹھ نصیحتیں بیان کیں، جو کردار سازی اور معاشرتی خدمت پر زور دیتی ہیں (Siraat-Times)۔