پورے یقین کے ساتھ اس امر کو جانے رہو کہ اللہ سبحانہ نے کسی بندے کے لیے چاہے اس کی تدبیریں بہت زبر دست‘ اس کی جستجو شدید اور اس کی ترکیبیں طاقت ور ہوں اس سے زائد رزق قرار دیا جتنا کہ تقدیر الٰہی میں اس کے لیے مقرر ہوچکا ہے۔اور کسی بندے کے لیے اس کمزوری و بے چارگی کی وجہ سے لوح محفو ظ میں اس کے مقررہ رزق تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔اس حقیقت کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کر نے والا سودومنفعت کی راحتوں میں سب لوگوں سے بڑھ چڑھ کر ہے اور اسے نظر انداز کرنے اوراس میں شک و شبہ کرنے والا سب لوگوں سے زیادہ زیاں کاری میں مبتلاہے بہت سے وہ جنہیں نعمتیں ملی ہیں ‘نعمتوں کی بدولت کم کم عذا ب کے نزدیک کئے جارہے ہیں ‘اور بہت سوں کے ساتھ فقر فاقہ کے پردہ ہیں اللہ کا لطف وکرم شامل حال ہے لہٰذا اسے سننے والے شکر زیادہ اور جلد بازی کم کر اور جو تیری روزی کی حد ہے اس پر ٹھہر ا رہے