دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی دیس۔
(اگر انسان صاحبِ دولت و ثروت ہو تو وہ جہاں کہیں ہوگا اسے دوست و آشنا مل جائیں گے جس کی مدد سے اسے پردیس میں مسافرت کا احسا س نہ ہو گا اور اگر فقیر و نادار ہو تو اسے وطن میں بھی دوست و آشنا میسر نہ ہوں گے کیونکہ لوگ غریب و نادار سے دوستی قائم کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے اور نہ ہی اس سے تعلقات بڑھانا پسند پسند کرتے ہیں۔ اس لئے وہ وطن میں بھی بے وطن ہوتا ہے اور کوئی اس کا شناسا و پرسانِ حال نہیں ہوتا)۔