نااہل کے سامنے حاجت پیش کرنے سے جو شرمندگی حاصل ہوتی ہے وہ محرومی کے اندوہ سے کہیں زیادہ روحانی اذیت کا باعث ہوتی ہے ۔اس لیے کے مقصد سے محرومی کو برداشت کیا جاسکتا ہے ۔مگر ایک دنی و فر و مایہ کی زیر باری ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔ چنانچہ ہر با حمیت انسان نااہل کے ممنون احسان ہونے سے اپنی حرمان نصیبی کو ترجیح دے گا ٬اور کسی پست و دنی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہ کرے گا ۔