دعائے ندبہ عربى بمعہ اردو ترجمہ بامحاورہ - Mujarab Duas from Quran and Hadith

Breaking

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Wednesday, April 29, 2026

دعائے ندبہ عربى بمعہ اردو ترجمہ بامحاورہ

دعائے ندبہ ایک نہایت بابرکت اور روح پرور دعا ہے جو امام زمانہ حضرت مہدی علیہ السلام کی یاد اور ان کے ظہور کے انتظار میں پڑھی جاتی ہے۔ اس دعا میں اہلِ بیتؑ کی عظمت، ان کے مصائب، اور حق و باطل کی جدوجہد کا بیان نہایت مؤثر انداز میں کیا گیا ہے۔ مومنین اس دعا کے ذریعے اپنے دلوں میں امامؑ کی محبت کو تازہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد امام مہدیؑ کے ظہور کا وقت مقرر فرمائے۔ یہ دعا عام طور پر جمعہ کے دن، عید الفطر، عید الاضحیٰ اور عید غدیر کے مواقع پر پڑھی جاتی ہے۔ دعائے ندبہ انسان کے دل میں امید، صبر اور استقامت پیدا کرتی ہے اور اسے دینِ حق پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔

📏 فونٹ سائز ترتیبات

40px
36px
❁❁❁
بِسْـمِ اللّٰهِ الـرَّحْـمٰنِ الرَّحِـيْمِ
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا پرودگار ہے
وَصَلَّي اللّٰهُ عَلٰي سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ نَبِيِّهٖ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ تَسْلِيْمًا
اور خدا ہمارے سردار اور اپنے نبی محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت کرے اور بہت بہت سلام بھیجے
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ
اے معبود حمد ہے تیرے لیے
عَلٰي مَا جَرٰي بِهٖ قَضَاؤُكَ فِيْ اَوْلِيَائِكَ
کہ جاری ہو گی تیری قضاء و قدر تیرے اولیاء کے بارے میں
الَّذِيْنَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ لِنَفْسِكَ وَدِيْنِكَ
جن کو تو نے اپنے لیے اور اپنے دین کیلئے خاص کیا
اِذِ اخْتَرْتَ لَهُمْ جَزِيْلَ مَا عِنْدَكَ
جب کہ انہیں اپنے ہاں سے عطا کی ہیں
مِنَ النَّعِيْمِ الْمُقِيْمِ
وہ نعمتیں جو باقی رہنے والی ہیں
الَّذِيْ لَا زَوَالَ لَهٗ وَلَا اضْمِحْلَالَ
جو نہ ختم ہوتی ہیں نہ کمزور پڑتی ہیں
بَعْدَ اِنْ شَرَطْتَ عَلَيْهِمُ الزُّهْدَ
اس کے بعد کہ تو نے ان پر دور رہنا لازم کیا
فِيْ دَرَجَاتِ هٰذِهِ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ
اس دنیا کے بے حقیقت مناصب،
وَزُخْرُفِهَا وَزِبْرِجِهَا
جھوٹی شان و شوکت اور زینت سے
فَشَرَطُوْا لَكَ ذٰلِكَ وَعَلِمْتَ مِنْهُمُ الْوَفَاءَ بِهٖ
پس انہوں نے یہ شرط پوری کی اور ان کی وفا کو تو جانتا ہے
فَقَبِلْتَهُمْ وَقَرَّبْتَهُمْ
تو نے انہیں قبول کیا، مقرب بنایا،
وَقَدَّمْتَ لَهُمُ الذِّكْرَ الْعَلِيَّ وَالثَّنَاءَ الْجَلِيَّ
ان کے ذکر کو بلند فرمایا اور ان کی تعریفیں ظاہر کیں
وَاَهْبَطْتَ عَلَيْهِمْ مَلَائِكَتَكَ
تو نے ان کی طرف اپنے فرشتے بھیجے
وَكَرَّمْتَهُمْ بِوَحْيِكَ وَرَفَدْتَهُمْ بِعِلْمِكَ
ان کو وحی سے مشرف کیا، ان کو اپنے علوم سے نوازا
وَجَعَلْتَهُمُ الذَّرِيْعَةَ اِلَيْكَ
اور ان کو وہ ذریعہ قرار دیا جو تجھ تک پہنچائے
وَالْوَسِيْلَةَ اِلٰي رِضْوَانِكَ
اور وہ وسیلہ جو تیری خوشنودی تک لے جائے
فَبَعْضٌ اَسْكَنْتَهٗ جَنَّتَكَ اِلٰي اَنْ اَخْرَجْتَهٗ مِنْهَا
پس ان میں کسی کو جنت میں رکھا یہاں تک کہ اس سے باہر بھیجا
وَبَعْضٌ حَمَلْتَهٗ فِيْ فُلْكِكَ
کسی کو اپنی کشتی میں سوار کیا
وَنَجَّيْتَهٗ وَمَنْ اٰمَنَ مَعَهٗ مِنَ الْهَلَكَةِ بِرَحْمَتِكَ
اور ان کو اور جو ان کے ساتھ تھے انہیں موت سے بچایا تو نے اپنی رحمت کے ساتھ
وَبَعْضٌ اتَّخَذْتَهٗ لِنَفْسِكَ خَلِيْلًا
اور کسی کو تو نے اپنا خلیل بنایا
وَسَاَلَكَ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ
پھر دوسرے سچی زبان والوں نے تجھ سے سوال کیا
فَاَجَبْتَهٗ وَجَعَلْتَ ذٰلِكَ عَلِيًّا
جسے تو نے پورا فرمایا، اسے بلند و بالا قرار دیا
وَبَعْضٌ كَلَّمْتَهٗ مِنْ شَجَرَةٍ تَكْلِيْمًا
کسی کے ساتھ تو نے درخت کے ذریعے کلام کیا
وَجَعَلْتَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ رِدْئًا وَوَزِيْرًا
اور اس کے بھائی کو اس کا مددگار بنایا
وَبَعْضٌ اَوْلَدْتَهٗ مِنْ غَيْرِ اَبٍ
کسی کو تو نے نے بن باپ کے پیدا فرمایا
وَاٰتَيْتَهٗ الْبَيِّنَاتِ وَاَيَّدْتَهٗ بِرُوْحِ الْقُدُسِ
اسے بہت سے معجزات دئیے اور روح قدس سے اسے قوت دی
وَكُلٌّ شَرَعْتَ لَهٗ شَرِيْعَةً وَنَهَجْتَ لَهٗ مِنْهَاجًا
تو نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور راستہ مقرر کیا
وَتَخَيَّرْتَ لَهٗ اَوْصِيَاءَ
ان کے لیے اوصیاء چنے
مُسْتَحْفِظًا بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ مِنْ مُدَّةٍ اِلٰي مُدَّةٍ
کہ ایک کے بعد دوسرا نگہبان آیا
اِقَامَةً لِدِيْنِكَ وَحُجَّةً عَلٰي عِبَادِكَ
تیرے دین کو قائم رکھنے کے لیے، جو تیرے بندوں پر حجت قرار پایا
وَلِئَلَّا يَزُوْلَ الْحَقُّ عَنْ مَقَرِّهِ
تاکہ حق اپنے مقام سے نہ ہٹے
وَيَغْلِبَ الْبَاطِلُ عَلٰي اَهْلِهٖ
اور باطل کے حامی اہل حق پر غلبہ نہ پائیں
وَلَا يَقُوْلَ اَحَدٌ لَوْ لَا اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا مُنْذِرًا
اور کوئی یہ نہ کہے کہ کاش تو نے ہماری طرف ڈرانے والا رسول بھیجا ہوتا
وَاَقَمْتَ لَنَا عَلَمًا هَادِيًا
اور ہمارے لیے ہدایت کا جھنڈا بلند کیا ہوتا
فَنَتَّبِعَ اٰيَاتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَذِلَّ وَنَخْزٰي
کہ تیری آیتوں کی پیروی کرتے اس سے پہلے کہ ذلیل و رسوا ہوں
اِلٰي اَنْ انْتَهَيْتَ بِالْاَمْرِ اِلٰي حَبِيْبِكَ وَنَجِيْبِكَ
یہاں تک کہ تو نے امر ہدایت سپرد کیا اپنے حبیب اور پاکیزہ اصل
مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ
محمد صلی اللہ علیہ والہ کے
فَكَانَ كَمَا انْتَجَبْتَهٗ سَيِّدَ مَنْ خَلَقْتَهٗ
پس وہ ایسے سردار ہوئے جن کو تو نے مخلوق میں سے پسند کیا
وَصَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَيْتَهٗ
برگزیدوں میں سے برگزیدہ بنایا
وَاَفْضَلَ مَنِ اجْتَبَيْتَهٗ وَاَكْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهٗ
جن کو چنا ان میں سے افضل بنایا، اپنے خواص میں سے بزرگ قرار دیا
قَدَّمْتَهٗ عَلٰي اَنْبِيَائِكَ
انہیں نبیوں کا پیشوا بنایا
وَبَعَثْتَهٗ اِلَي الثَّقَلَيْنِ مِنْ عِبَادِكَ
اور ان کو اپنے بندوں میں سے جن وانس کی طرف بھیجا
وَاَوْطَاْتَهٗ مَشَارِقَكَ وَمَغَارِبَكَ
ان کیلئے سارے مشرقوں مغربوں کو زیر کر دیا
وَسَخَّرْتَ لَهُ الْبُرَاقَ
براق کو ان کا مطیع بنایا
وَعَرَجْتَ بِرُوْحِهِ اِلٰي سَمَائِكَ
اور ان کو جسم و جان کے ساتھ آسمان پر بلایا
وَاَوْدَعْتَهٗ عِلْمَ مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ
اور تو نے انہیں سابقہ و آئندہ باتوں کا علم دیا
اِلَي انْقِضَاءِ خَلْقِكَ
یہاں تک کہ تیری مخلوق ختم ہو جائے
ثُمَّ نَصَرْتَهٗ بِالرُّعْبِ وَحَفَفْتَهٗ بِجَبْرَائِيْلَ وَمِيْكَائِيْلَ
پھر ان کو دبدبہ عطا کیا اور ان کے گرد جبرائیلؑ و میکائیلؑ
وَالْمُسَوِّمِيْنَ مِنْ مَلَائِكَتِكَ
اور نشان زدہ فرشتوں کو جمع فرمایا
وَوَعَدْتَهٗ اَنْ تُظْهِرَ دِيْنَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ
ان سے وعدہ کیا کہ آپ کا دین تمام ادیان پر غالب آئے گا
وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ
اگرچہ مشرک دل تنگ ہوں
وَذٰلِكَ بَعْدَ اَنْ بَوَّاْتَهٗ مُبَوَّاَ صِدْقٍ مِنْ اَهْلِهٖ
اور یہ اس وقت ہوا جب ہجرت کے بعد تو نے ان کے خاندان کو سچائی کے مقام پر جگہ دی
وَجَعَلْتَ لَهٗ وَلَهُمْ اَوَّلَ بَيْتٍ
اور ان کے اور ان کے ساتھیوں کیلئے قبلہ بنایا پہلا گھر
وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًي لِلْعَالَمِيْنَ
جو مکہ میں بنا یا گیا جو جہانوں کیلئے برکت و ہدایت کا مرکز ہے
فِيْهِ اٰيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ اِبْرَاهِيْمَ
اس میں واضح نشانیاں اور مقام ابراہیمؑ ہے
وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا
جو اس گھر میں داخل ہوا اسے امان مل گئی
وَقُلْتَ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ
نیز تو نے فرمایا ضرور خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ تم سے برائی کو دور کر دے اے اہلبیتؑ
وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا
اور تمہیں پاک رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے
ثُمَّ جَعَلْتَ اَجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ
محمدؐ پر اور ان کی آلؑ پر تیری رحمتیں ہوں، تو نے اجر رسالت قرار دیا
مَوَدَّتَهُمْ فِيْ كِتَابِكَ
اہل بیتؑ کی محبت کو، قرآن میں
فَقُلْتَ قُلْ لَا اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰي
پس تو نے فرمایا کہہ دیں کہ میں تم سے اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اقربا سے محبت کرو
وَقُلْتَ مَا سَاَلْتُكُمْ مِنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ
اور تو نے کہا جو اجر میں نے تم سے مانگا ہے وہ تمہارے فائدے میں ہے
وَقُلْتَ مَا اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ
نیز تو نے فرمایا میں نے تم سے اجر رسالت نہیں مانگا
اِلَّا مَنْ شَاءَ اَنْ يَتَّخِذَ اِلٰي رَبِّهٖ سَبِيْلًا
سوائے اس کے کہ یہ راہ اس کے لیے جو خدا تک پہنچنا چاہے
فَكَانُوْا هُمُ السَّبِيْلَ اِلَيْكَ
پس اہل بیتؑ تیرا مقرر کردہ راستہ
وَالْمَسْلَكَ اِلٰي رِضْوَانِكَ
اور تیری خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہیں
فَلَمَّا انْقَضَتْ اَيَّامُهٗ
ہاں جب محمدؐ رسول اللہ کا وقت پورا ہو گیا
اَقَامَ وَلِيَّهُ عَلِيَّ بْنَ اَبِيْ طَالِبٍ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِمَا وَاٰلِهِمَا
تو ان کی جگہ علیؑ بن ابی طالبؑ نے لے لی، ان دونوں پر اور ان کی آلؑ پر تیری رحمتیں ہوں
هَادِيًا اِذْ كَانَ هُوَ الْمُنْذِرَ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
علیؑ رہبر ہیں جب کہ محمدؐ ڈرانے والے اور ہر قوم کیلئے رہبر ہے
فَقَالَ وَالْمَلَاُ اَمَامَهٗ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
پس فرمایا آپ نے جماعت صحابہ سے کہ جس کا میں مولا ہوں پس علیؑ بھی اس کے مولا ہیں
اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
اے معبود محبت کر اس سے جو اس سے محبت کرے دشمنی کر اس سے جو اس سے دشمنی کرے
وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهٗ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهٗ
مدد کر اس کی جو اس کی مدد کرے خوار کر اس کو جو اسے چھوڑے
وَقَالَ مَنْ كُنْتُ اَنَا نَبِيَّهٗ فَعَلِيٌّ اَمِيْرُهٗ
نیز فرمایا کہ جس کا میں نبیؐ ہوں علیؑ اس کا امیر و حاکم ہے
وَقَالَ اَنَا وَعَلِيٌّ مِنْ شَجَرَةٍ وَاحِدَةٍ
اور فرمایا میں اور علیؑ ایک درخت سے ہیں
وَسَائِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتّٰي
اور دوسرے لوگ مختلف درختوں سے پیدا ہوئے ہیں
وَاَحَلَّهٗ مَحَلَّ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰي
اور علیؑ کو اپنا جانشین بنایا جیسے ہارونؑ موسیٰؑ کے جانشین ہوئے
فَقَالَ لَهٗ اَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰي
پس فرمایا اے علیؑ تم میری نسبت وہی مقام رکھتے ہو جو ہارونؑ کو موسیٰؑ کی نسبت تھا
اِلَّا اَنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
مگر میرے بعد کوئی نبیؐ نہیں
وَزَوَّجَهُ ابْنَتَهٗ سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِيْنَ
آپ نے علیؑ کا نکاح اپنی بیٹی سردار زنان عالمؑ سے کیا
وَاَحَلَّ لَهٗ مِنْ مَسْجِدِهٖ مَا حَلَّ لَهٗ
مسجد میں ان کیلئے وہ امر حلال رکھا جو آپ کیلئے تھا
وَسَدَّ الْاَبْوَابَ اِلَّا بَابَهٗ
اور مسجد کی طرف سے سبھی دروازے بند کرائے سوائے علیؑ کے دروازے کے
ثُمَّ اَوْدَعَهٗ عِلْمَهٗ وَحِكْمَتَهٗ
پھر اپنا علم و حکمت ان کے سپرد کیا
فَقَالَ اَنَا مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا
تو فرمایا میں علم کاشہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں
فَمَنْ اَرَادَ الْمَدِيْنَةَ وَالْحِكْمَةَ فَلْيَاْتِهَا مِنْ بَابِهَا
لہذا جو علم و حکمت کا طالب ہے وہ اس در علم پر آئے
ثُمَّ قَالَ اَنْتَ اَخِيْ وَوَصِيِّيْ وَوَارِثِيْ
نیز یہ کہا کہ اے علیؑ تم میرے بھائی جانشین اور وارث ہو
لَحْمُكَ مِنْ لَحْمِيْ وَدَمُكَ مِنْ دَمِيْ
تمہارا گوشت میرا گوشت، تمہارا خون میرا خون
وَسِلْمُكَ سِلْمِيْ وَحَرْبُكَ حَرْبِيْ
تمہاری صلح میری صلح، تمہاری جنگ میری جنگ ہے
وَالْاِيْمَانُ مُخَالِطٌ لَحْمَكَ وَدَمَكَ
اور ایمان تمہاری رگوں میں شامل ہے
كَمَا خَالَطَ لَحْمِيْ وَدَمِيْ
جیسے وہ میرے رگوں میں شامل ہے
وَاَنْتَ غَدًا عَلَي الْحَوْضِ خَلِيْفَتِيْ
قیامت میں تم حوض کوثر پر میرے خلیفہ ہو گے
وَاَنْتَ تَقْضِيْ دَيْنِيْ وَتُنْجِزُ عِدَاتِيْ
تمہی میرے قرضے چکاؤ گے اور میرے وعدے نبھاؤ گے
وَشِيْعَتُكَ عَلٰي مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ مُبْيَضَّةً وُجُوْهُهُمْ
تمہارے شیعہ جنت میں چمکتے چہروں کے ساتھ نورانی تختوں پر
حَوْلِيْ فِي الْجَنَّةِ وَهُمْ جِيْرَانِيْ
میرے آس پاس میرے قرب میں ہوں گے
وَلَوْ لَا اَنْتَ يَا عَلِيُّ لَمْ يُعْرَفِ الْمُؤْمِنُوْنَ بَعْدِيْ
اور اے علیؑ اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنوں کی پہچان نہ ہو پاتی
وَكَانَ بَعْدَهٗ هُدًي مِنَ الضَّلَالِ وَنُوْرًا مِنَ الْعَمٰي
چنانچہ وہ آپ کے بعد گمراہی سے ہدایت میں لانے والے، تاریکی سے روشنی میں لانے والے
وَحَبْلَ اللّٰهِ الْمَتِيْنَ وَصِرَاطَهُ الْمُسْتَقِيْمَ
خدا کا مضبوط سلسلہ اور اس کا سیدھا راستہ ہیں
لَا يُسْبَقُ بِقَرَابَةٍ فِيْ رَحِمٍ
نہ قرابت پیغمبرؐ میں کوئی ان سے بڑھا ہوا تھا
وَلَا بِسَابِقَةٍ فِيْ دِيْنٍ
نہ دین میں کوئی ان سے آگے تھا
وَلَا يُلْحَقُ فِيْ مَنْقَبَةٍ مِنْ مَنَاقِبِهٖ
ان کے علاوہ کوئی بھی اوصاف میں رسولؐ کے مانند نہ تھا
يَحْذُوْ حَذْوَ الرَّسُوْلِ
۔۔۔۔۔۔۔
صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِمَا وَاٰلِهِمَا
علیؑ و نبیؐ اور ان کی آلؑ پر خدا کی رحمت ہو
وَيُقَاتِلُ عَلَي التَّاْوِيْلِ
علیؑ نے تاویل قرآن پر جنگ کی
وَلَا تَاْخُذُهٗ فِي اللّٰهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ
اور خدا کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کی
قَدْ وَتَرَ فِيْهِ صَنَادِيْدَ الْعَرَبِ
عرب سرداروں کو ہلاک کیا
وَقَتَلَ اَبْطَالَهُمْ وَنَاوَشَ ذُؤْبَانَهُمْ
ان کے بہادروں کو قتل کیا اور ان کے پہلوانوں کو پچھاڑا
فَاَوْدَعَ قُلُوْبَهُمْ اَحْقَادًا بَدْرِيَّةً وَخَيْبَرِيَّةً وَحُنَيْنِيَّةً وَغَيْرَهُنَّ
پس عربوں کے دلوں میں کینہ بھر گیا کہ بدر، خیبر، حنین وغیرہ میں ان کے لوگ قتل ہو گئے
فَاَضَبَّتْ عَلٰي عَدَاوَتِهٖ
پس وہ علیؑ کی دشمنی میں اکھٹے ہوئے
وَاَكَبَّتْ عَلٰي مُنَابَذَتِهٖ
اور ان کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے
حَتّٰي قَتَلَ النَّاكِثِيْنَ وَالْقَاسِطِيْنَ وَالْمَارِقِيْنَ
چنانچہ آپؑ نے بیعت توڑنے والوں، تفرقہ ڈالنے والوں اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو قتل کیا
وَلَمَّا قَضٰي نَحْبَهٗ وَقَتَلَهٗ اَشْقَي الْاٰخِرِيْنَ
جب آپ کا وقت پورا ہوا تو بعد والوں میں سے بدبخت ترین نے آپ کو قتل کیا
يَتْبَعُ اَشْقَي الْاَوَّلِيْنَ
اس نے پہلے والے شقی ترین کی پیروی کی
لَمْ يُمْتَثَلْ اَمْرُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ
رسول اللہ کا فرمان پورا نہ ہوا
فِي الْهَادِيْنَ بَعْدَ الْهَادِيْنَ
جبکہ ایک رہبر کے بعد دوسرا رہبر آتا رہا
وَالْأُمَّةُ مُصِرَّةٌ عَلٰي مَقْتِهٖ
اور امت اس کی دشمنی پر شدت سے کمر بستہ ہو کر
مُجْتَمِعَةٌ عَلٰي قَطِيْعَةِ رَحِمِهٖ وَاِقْصَاءِ وُلْدِهٖ
اس پر ظلم ڈھاتی رہی اور اس کی اولاد کو پریشان کرتی رہی
اِلَّا الْقَلِيْلَ مِمَّنْ وَفٰي لِرِعَايَةِ الْحَقِّ فِيْهِمْ
مگر تھوڑے سے لوگ وفادار تھے اور ان کا حق پہچانتے تھے
فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ وَسُبِيَ مَنْ سُبِيَ
پس ان میں سے کچھ قتل ہو گئے کچھ قید میں ڈالے گئے
وَاُقْصِيَ مَنْ اُقْصِيَ
اور کچھ بے وطن ہوئے
وَجَرَي الْقَضَاءُ لَهُمْ بِمَا يُرْجٰي لَهٗ حُسْنُ الْمَثُوْبَةِ
ان پر قضا وارد ہو گئی جس پر وہ بہترین اجر کے امیدوار ہوئے
اِذْ كَانَتِ الْاَرْضُ لِلّٰهِ يُوْرِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ
کیونکہ زمین خدا کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے
وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ
اور انجام کار پرہیزگاروں کیلئے ہے
وَسُبْحَانَ رَبِّنَا اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا
اور پاک ہے ہمارا رب کہ ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے
وَلَنْ يُخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ
ہاں خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا وہ زبردست ہے حکمت والا
فَعَلَي الْاَطَآئِبِ مِنْ اَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ وَعَلِيٍّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِمَا وَاٰلِهِمَا
پس حضرت محمدؐ و حضرت علیؑ کہ ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو ان کے خاندان پر
فَلْيَبْكِ الْبَاكُوْنَ وَاِيَّاهُمْ فَلْيَنْدُبِ النَّادِبُوْنَ
ان پر رونے والوں کو رونا چاہیے، چنانچہ ان پر اور ان جیسوں پر دھاڑیں مار کر رونا چاہیے
وَلِمِثْلِهِمْ فَلْتَذْرِفِ الدُّمُوْعُ وَلْيَصْرُخِ الصَّارِخُوْنَ
پس ان کیلئے آنسو بہائے جائیں رونے والے چیخ چیخ کر روئیں
وَيَضِجَّ الضَّاجُّوْنَ وَيَعِجَّ الْعَاجُّوْنَ
نالہ و فریاد بلند کریں اور اونچی آوازوں میں رو کر کہیں
اَيْنَ الْحَسَنُ اَيْنَ الْحُسَيْنُ اَيْنَ اَبْنَاءُ الْحُسَيْنِ
کہاں ہیں حسنؑ، کہاں ہیں حسینؑ، کہاں گئے فرزندان حسینؑ
صَالِحٌ بَعْدَ صَالِحٍ وَصَادِقٌ بَعْدَ صَادِقٍ
ایک نیک کردار کے بعد دوسرا نیک کردار، ایک سچے کے بعد دوسرا سچا
اَيْنَ السَّبِيْلُ بَعْدَ السَّبِيْلِ
کہاں گئے جو ایک کے بعد ایک راہ حق کے رہبر تھے
اَيْنَ الْخِيَرَةُ بَعْدَ الْخِيَرَةِ
کہاں گئے جو اپنے وقت میں خدا کے برگزیدہ تھے
اَيْنَ الشُّمُوْسُ الطَّالِعَةُ
کدھر گئے وہ چمکتے سورج
اَيْنَ الْاَقْمَارُ الْمُنِيْرَةُ
کیا ہوئے وہ دمتے چاند
اَيْنَ الْاَنْجُمُ الزَّاهِرَةُ
کہاں گئے وہ جھلملاتے ستارے
اَيْنَ اَعْلَامُ الدِّيْنِ وَقَوَاعِدُ الْعِلْمِ
کدھر گئے وہ دین کے نشان اور علم کے ستون
اَيْنَ بَقِيَّةُ اللّٰهِ الَّتِيْ لَا تَخْلُوْ مِنَ الْعِتْرَةِ الْهَادِيَةِ
کہاں ہے خدا کا آخری نمائندہ جو رہبروں کے اس خاندان سے باہر نہیں
اَيْنَ الْمُعَدُّ لِقَطْعِ دَابِرِ الظَّلَمَةِ
کہاں ہے وہ جو ظالموں کی جڑیں کاٹنے کیلئے آمادہ ہے
اَيْنَ الْمُنْتَظَرُ لِاِقَامَةِ الْاَمْتِ وَالْعِوَجِ
کہاں ہے وہ جو انتظار میں ہے کہ کج کو سیدھا اور نادرست کو درست کرے
اَيْنَ الْمُرْتَجٰي لِاِزَالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوَانِ
کہاں ہے وہ امیدگاہ جو ظلم و ستم کو مٹانے والا ہے
اَيْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِيْدِ الْفَرَائِضِ وَالسُّنَنِ
کہاں ہے وہ جو فرائض اور سنن کو زندہ کرنے والا امامؑ
اَيْنَ الْمُتَخَيَّرُ لِاِعَادَةِ الْمِلَّةِ وَالشَّرِيْعَةِ
کہاں ہے وہ جو ملت اور شریعت کو راست کرنے والا
اَيْنَ الْمُؤَمَّلُ لِاِحْيَاءِ الْكِتَابِ وَحُدُوْدِهِ
کہاں ہے وہ جس کے ذریعے قرآن اور اس کے احکام کے زندہ ہونے کی توقع ہے
اَيْنَ مُحْيِيْ مَعَالِمِ الدِّيْنِ وَاَهْلِهٖ
کہاں ہے وہ جو دین اور اہل دین کے طریقے روشن کرنے والا
اَيْنَ قَاصِمُ شَوْكَةِ الْمُعْتَدِيْنَ
کہاں ہے وہ جو ظالموں کا زور توڑنے والا
اَيْنَ هَادِمُ اَبْنِيَةِ الشِّرْكِ وَالنِّفَاقِ
کہاں ہے وہ جو شرک و نفاق کی بنیادیں ڈھانے والا
اَيْنَ مُبِيْدُ اَهْلِ الْفُسُوْقِ وَالْعِصْيَانِ وَالطُّغْيَانِ
کہاں ہے وہ جو بدکاروں نافرمانوں اور سرکشوں کو تباہ کرنے والا
اَيْنَ حَاصِدُ فُرُوْعِ الْغَيِّ وَالشِّقَاقِ
کہاں ہے وہ جو گمراہی اور تفرقے کی شاخیں کاٹنے والا
اَيْنَ طَامِسُ اٰثَارِ الزَّيْغِ وَالْاَهْوَاءِ
کہاں ہے وہ جو کج دلی و نفس پرستی کے داغ مٹانے والا
اَيْنَ قَاطِعُ حَبَائِلِ الْكِذْبِ وَالْاِفْتِرَاءِ
کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان کی رگیں کاٹنے والا
اَيْنَ مُبِيْدُ الْعُتَاةِ وَالْمَرَدَةِ
کہاں ہے وہ جو سرکشوں اور مغروروں کو تباہ کرنے والا
اَيْنَ مُسْتَاْصِلُ اَهْلِ الْعِنَادِ وَالتَّضْلِيْلِ وَالْاِلْحَادِ
کہاں ہے وہ جو دشمنوں گمراہ کرنے والوں اور بے دینوں کی جڑیں اکھاڑنے والا
اَيْنَ مُعِزُّ الْاَوْلِيَاءِ وَمُذِلُّ الْاَعْدَاءِ
کہاں ہے وہ جو دوستوں کو باعزت اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا
اَيْنَ جَامِعُ الْكَلِمَةِ عَلَي التَّقْوٰي
کہاں ہے وہ جو سب کو تقویٰ پر جمع کرنے والا
اَيْنَ بَابُ اللّٰهِ الَّذِيْ مِنْهُ يُؤْتٰي
کہاں ہے وہ جو خدا کا دروازہ جس سے وارد ہوں
اَيْنَ وَجْهُ اللّٰهِ الَّذِيْ اِلَيْهِ يَتَوَجَّهُ الْاَوْلِيَاءُ
کہاں ہے وہ جو مظہر خدا کہ جس کی طرف حُب دار متوجہ ہوں
اَيْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ بَيْنَ الْاَرْضِ وَالسَّمَاءِ
کہاں ہے وہ جو زمین و آسمان کے پیوست رہنے کا وسیلہ
اَيْنَ صَاحِبُ يَوْمِ الْفَتْحِ وَنَاشِرُ رَايَةِ الْهُدٰي
کہاں ہے وہ جو یوم فتح کا حکمران اور ہدایت کا پرچم لہرانے والا
اَيْنَ مُؤَلِّفُ شَمْلِ الصَّلَاحِ وَالرِّضَا
کہاں ہے جو وہ نیکی و خوشنودی کا لباس پہننے والا
اَيْنَ الطَّالِبُ بِذُحُوْلِ الْاَنْبِيَاءِ وَاَبْنَاءِ الْاَنْبِيَاءِ
کہاں ہے وہ جو نبیوں کے خون اور نبیوں کی اولاد کے خون کا دعویدار
اَيْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُوْلِ بِكَرْبَلَاءَ
کہاں ہے وہ جو کربلا کے مقتول حسینؑ کے خون کا مدعی
اَيْنَ الْمَنْصُوْرُ عَلٰي مَنِ اعْتَدٰي عَلَيْهِ وَافْتَرٰي
کہاں ہے وہ جو اس پر غالب ہے جس نے زیادتی کی اور جھوٹ باندھا
اَيْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذِيْ يُجَابُ اِذَا دَعَا
وہ پریشان کہ جب دعا مانگے قبول ہوتی ہے
اَيْنَ صَدْرُ الْخَلَائِقِ ذُو الْبِرِّ وَالتَّقْوٰي
کہاں ہے وہ جو مخلوق کا حاکم جو نیک و پرہیز گار ہے
اَيْنَ ابْنُ النَّبِيِّ الْمُصْطَفٰي وَابْنُ عَلِيٍّ الْمُرْتَضٰي
کہاں ہے وہ جو نبی مصطفیؐ کا فرزند، علی مرتضیؑ کا فرزند
وَابْنُ خَدِيْجَةَ الْغَرَّاءِ وَابْنُ فَاطِمَةَ الْكُبْرٰي
خدیجہ پاکؑ کا فرزند اور فاطمہ کبریؑ کا فرزند
بِاَبِيْ اَنْتَ وَاُمِّيْ وَنَفْسِيْ لَكَ الْوِقَاءُ وَالْحِمٰي
مہدیؑ قربان آپ پر میرے ماں باپ اور میری جان آپ کیلئے فدا ہے
يَابْنَ السَّادَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ
اے خدا کے مقرب سرداروں کے فرزند
يَابْنَ النُّجَبَاءِ الْاَكْرَمِيْنَ
اے پاک نسل بزرگواروں کے فرزند
يَابْنَ الْهُدَاةِ الْمَهْدِيِّيْنَ
اے ہدایت یافتہ رہبروں کے فرزند
يَابْنَ الْخِيَرَةِ الْمُهَذَّبِيْنَ
اے برگزیدہ اور خوش اطوار بزرگوں کے فرزند
يَابْنَ الْغَطَارِفَةِ الْاَنْجَبِيْنَ
اے پاک نہاد سرداروں کے فرزند
يَابْنَ الْاَطَآئِبِ الْمُطَهَّرِيْنَ
اے پاکبازوں پاک شدگان کے فرزند
يَابْنَ الْخَضَارِمَةِ الْمُنْتَجَبِيْنَ
اے پاک نژاد و سادات کے فرزند
يَابْنَ الْقَمَاقِمَةِ الْاَكْرَمِيْنَ
اے وسیع القلب عزت داروں کے فرزند
يَابْنَ الْبُدُوْرِ الْمُنِيْرَةِ
اے روشن چاندوں کے فرزند
يَابْنَ السُّرُجِ الْمُضِيْئَةِ
اے روشن چراغوں کے فرزند
يَابْنَ الشُّهُبِ الثَّاقِبَةِ
اے روشن سیاروں کے فرزند
يَابْنَ الْاَنْجُمِ الزَّاهِرَةِ
اے چمکتے ستاروں کے فرزند
يَابْنَ السُّبُلِ الْوَاضِحَةِ
اے روشن راہوں کے فرزند
يَابْنَ الْاَعْلَامِ اللَّائِحَةِ
اے بلند مرتبے والوں کے فرزند
يَابْنَ الْعُلُوْمِ الْكَامِلَةِ
اے حاملین علوم کے فرزند
يَابْنَ السُّنَنِ الْمَشْهُوْرَةِ
اے واضح روشوں کے فرزند
يَابْنَ الْمَعَالِمِ الْمَاْثُوْرَةِ
اے مذکورہ علامتوں کے فرزند
يَابْنَ الْمُعْجِزَاتِ الْمَوْجُوْدَةِ
اے معجز نماؤں کے فرزند
يَابْنَ الدَّلَائِلِ الْمَشْهُوْدَةِ
اے ظاہر دلائل کے فرزند
يَابْنَ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيْمِ
اے سیدھے راستے کے فرزند
يَابْنَ النَّبَأَ الْعَظِيْمِ
اے عظیم خبر کے فرزند
يَابْنَ مَنْ هُوَ فِيْ اُمِّ الْكِتَابِ لَدَي اللّٰهِ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ
اے اس ہستی کے فرزند جو خدا کے ہاں ام الکتاب میں علی اور حکیم ہے
يَابْنَ الْاٰيَاتِ وَالْبَيِّنَاتِ
اے واضح روشن آیات کے فرزند
يَابْنَ الدَّلَائِلِ الظَّاهِرَاتِ
اے ظاہر اور دلائل کے فرزند
يَابْنَ الْبَرَاهِيْنِ الْوَاضِحَاتِ الْبَاهِرَاتِ
اے واضح و روشن تر دلائل کے فرزند
يَابْنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَاتِ
اے کامل حجتوں کے فرزند
يَابْنَ النِّعَمِ السَّابِغَاتِ
اے بہترین نعمتوں کے فرزند
يَا ابْنَ طٰهٰ وَالْمُحْكَمَاتِ
اے طٰہ اور محکم آیتوں کے فرزند
يَابْنَ يٰسٓ وَالذَّارِيَاتِ
اے یاسین و ذاریات کے فرزند
يَابْنَ الطُّوْرِ وَالْعَادِيَاتِ
اے طور اور عادیات کے فرزند
يَابْنَ مَنْ دَنٰي فَتَدَلّٰي فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي
اے اس ہستی کے فرزند جو نزدیک ہوئے تو اس سے مل گئے پس کمان کے دونوں سروں جتنے
دُنُوًّا وَاقْتِرَابًا مِنَ الْعَلِيِّ الْاَعْلٰي
یا اس سے بھی نزدیک ہوئے علیِّ اعلیٰ کے قریب ہو گئے
لَيْتَ شِعْرِيْ اَيْنَ اسْتَقَرَّتْ بِكَ النَّوٰي
اے کاش میں جانتا کہ اس دوری نے آپ کو کہاں جا ٹھہرایا
بَلْ اَيُّ اَرْضٍ تُقِلُّكَ اَوْ ثَرٰي
اور کس زمین میں اور کس خاک نے آپ کو اٹھا رکھا ہے
اَبِرَضْوٰي اَوْ غَيْرِهَا اَمْ ذِيْ طُوٰي
آپ مقام رضویٰ میں ہیں یا کسی اور پہاڑ پر ہیں یا وادئ طویٰ میں
عَزِيْزٌ عَلَيَّ اَنْ اَرَي الْخَلْقَ وَلَا تُرٰي
یہ مجھ پر گراں ہے کہ مخلوق کو دیکھوں اور آپ کو نہ دیکھ پاؤں
وَلَا اَسْمَعُ لَكَ حَسِيْسًا وَلَا نَجْوٰي
نہ آپ کی آہٹ سنوں اور نہ سر گوشی
عَزِيْزٌ عَلَيَّ اَنْ تُحِيْطَ بِكَ دُوْنِيَ الْبَلْوٰي
مجھے رنج ہے کہ آپ تنہا سختی میں پڑے ہیں میں آپ کے ساتھ نہیں ہوں
وَلَا يَنَالُكَ مِنِّيْ ضَجِيْجٌ وَلَا شَكْوٰي
اور میری آہ و زاری آپ تک نہیں پہنچ پاتی
بِنَفْسِيْ اَنْتَ مِنْ مُغَيَّبٍ لَمْ يَخْلُ مِنَّا
میری جان آپ پر قربان کہ آپ غائب ہیں مگر ہم سے دور نہیں
بِنَفْسِيْ اَنْتَ مِنْ نَازِحٍ مَا نَزَحَ عَنَّا
میں آپ پر قربان آپ وطن سے دور ہیں لیکن ہم سے دور نہیں
بِنَفْسِيْ اَنْتَ اُمْنِيَّةُ شَائِقٍ يَتَمَنّٰي
میں آپ پر قربان آپ ہر محب کی آرزو
مِنْ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ ذَكَرَا فَحَنَّا
ہر مومن و مومنہ کی تمنا ہیں جس کیلئے وہ نالہ کرتے ہیں
بِنَفْسِيْ اَنْتَ مِنْ عَقِيْدِ عِزٍّ لَا يُسَامٰي
میں قربان آپ وہ عزت دار ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں
بِنَفْسِيْ اَنْتَ مِنْ اَثِيْلِ مَجْدٍ لَا يُجَارٰي
میں قربان آپ وہ بلند مرتبہ ہیں جن کے برابر کوئی نہیں
بِنَفْسِيْ اَنْتَ مِنْ تِلَادِ نِعَمٍ لَا تُضَاهٰي
میں قربان آپ وہ قدیمی نعمت ہیں جس کی مثل نہیں
بِنَفْسِيْ اَنْتَ مِنْ نَصِيْفِ شَرَفٍ لَا يُسَاوٰي
قربان آپ جو شرف رکھتے ہیں وہ کسی اور کو نہیں مل سکتا
اِلٰي مَتٰي اَحَارُ فِيْكَ يَا مَوْلَايَ
کب تک ہم آپ کے لیے بے چین رہیں گے اے میرے آقا
وَاِلٰي مَتٰي وَاَيَّ خِطَابٍ اَصِفُ فِيْكَ وَاَيَّ نَجْوٰي
اور کب تک اور کس طرح آپ سے خطاب کروں اور سرگوشی کروں
عَزِيْزٌ عَلَيَّ اَنْ اُجَابَ دُوْنَكَ وَاُنَاغٰي
یہ مجھ پر گراں ہے کہ سوائے آپ کے کسی سے جواب پاؤں یا باتیں سنوں
عَزِيْزٌ عَلَيَّ اَنْ اَبْكِيَكَ وَيَخْذُلَكَ الْوَرٰي
مجھ پر گراں ہے کہ میں آپ کیلئے روؤں اور لوگ آپ کو چھوڑے رہیں
عَزِيْزٌ عَلَيَّ اَنْ يَجْرِيَ عَلَيْكَ دُوْنَهُمْ مَا جَرٰي
مجھ پر گراں ہے کہ لوگوں کی طرف سے آپ پر گزرے جو گزرے
هَلْ مِنْ مُعِيْنٍ فَاُطِيْلَ مَعَهُ الْعَوِيْلَ وَالْبُكَاءَ
تو کیا کوئی ساتھی ہے جس کے ساتھ مل کر آپ کے لیے گریہ وزاری کروں
هَلْ مِنْ جَزُوْعٍ فَاُسَاعِدَ جَزَعَهُ اِذَا خَلَا
کیا کوئی بے تاب ہے کہ جب وہ تنہا ہو تو اس کے ہمراہ نالہ کروں
هَلْ قَذِيَتْ عَيْنٌ فَسَاعَدَتْهَا عَيْنِيْ عَلَي الْقَذٰي
آیا کوئی آنکھ ہے جس کے ساتھ مل کر میری آنکھ غم کے آنسو بہائے
هَلْ اِلَيْكَ يَابْنَ اَحْمَدَ سَبِيْلٌ فَتُلْقٰي
اے احمد مجتبیؐ کے فرزند آپ کے پاس آنے کا کوئی راستہ ہے
هَلْ يَتَّصِلُ يَوْمُنَا مِنْكَ بِعِدَةٍ فَنَحْظٰي
کیا ہمارا آج کا دن آپ کے کل سے مل جائے گا کہ ہم خوش ہوں
مَتٰي نَرِدُ مَنَاهِلَكَ الرَّوِيَّةَ فَنَرْوٰي
کب وہ وقت آئیگا کہ ہم آپ کے چشمے سے سیراب ہوں گے
مَتٰي نَنْتَقِعُ مِنْ عَذْبِ مَائِكَ فَقَدْ طَالَ الصَّدٰي
کب ہم آپ کے چشمۂ شیریں سے پیاس بجھائیں گے، اب تو پیاس طولانی ہو گئی
مَتٰي نُغَادِيْكَ وَنُرَاوِحُكَ فَنُقِرَّ عَيْنًا
کب ہماری صبح و شام آپ کے ساتھ گزرے گی کہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی
مَتٰي تَرَانَا وَنَرَاكَ وَقَدْ نَشَرْتَ لِوَاءَ النَّصْرِ تُرٰي
کب آپ ہمیں اور ہم آپ کو دیکھیں گے جبکہ آپ کی فتح کا پرچم لہراتا ہو گا
اَتَرَانَا نَحُفُّ بِكَ وَاَنْتَ تَؤُمُّ الْمَلَأ
ہم آپ کے ارد گرد جمع ہوں گے اور آپ سبھی لوگوں کے امام ہوں گے
وَقَدْ مَلَأْتَ الْاَرْضَ عَدْلًا
تب زمین آپ کے ذریعے عدل و انصاف سے پر ہو گی
وَاَذَقْتَ اَعْدَائَكَ هَوَانًا وَعِقَابًا
آپ اپنے دشمنوں کو سختی و ذلت سے ہمکنار کریں گے
وَاَبَرْتَ الْعُتَاةَ وَجَحَدَةَ الْحَقِّ
آپ سرکشوں اور حق کے منکروں کو نابود کریں گے
وَقَطَعْتَ دَابِرَ الْمُتَكَبِّرِيْنَ
مغروروں کا زور توڑ دیں گے
وَاجْتَثَثْتَ اُصُوْلَ الظَّالِمِيْنَ
اور ظلم کرنے والوں کی جڑیں کاٹ دیں گے
وَنَحْنُ نَقُوْلُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
اس وقت ہم کہیں گے حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا رب ہے۔
اَللّٰهُمَّ اَنْتَ كَشَّافُ الْكُرَبِ وَالْبَلْوٰي
اے معبود تو دکھوں اور مصیبتوں کو دور کرنے والا ہے
وَاِلَيْكَ اَسْتَعْدٰي فَعِنْدَكَ الْعَدْوٰي
میں تیرے حضور شکایت لایا ہوں کہ تو مداوا کرتا ہے
وَاَنْتَ رَبُّ الْاٰخِرَةِ وَالدُّنْيَا
اور تو ہی دنیا و آخرت کا پروردگار ہے
فَاَغِثْ يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيْثِيْنَ عُبَيْدَكَ الْمُبْتَلٰي
پس میری فریاد سن اے فریادیوں کی فریاد سننے والے، اپنے اس حقیر اور دکھی بندے کو
وَاَرِهٖ سَيِّدَهٗ يَا شَدِيْدَ الْقُوٰي
اس آقا کا دیدار کرا دے اے زبردست قوت والے
وَاَزِلْ عَنْهُ بِهِ الْاَسٰي وَالْجَوٰي
ان کے واسطے سے اس کے رنج و غم کو دور فرما
وَبَرِّدْ غَلِيْلَهٗ يَا مَنْ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰي
اور اس کی پیاس بجھا دے اے وہ ذات جو عرش پر حاوی ہے
وَمَنْ اِلَيْهِ الرُّجْعٰي وَالْمُنْتَهٰي
کہ جس کی طرف واپسی اور آخری ٹھکانا ہے
اَللّٰهُمَّ وَنَحْنُ عَبِيْدُكَ التَّائِقُوْنَ اِلٰي وَلِيِّكَ
اور اے معبود ہم ہیں تیرے حقیر بندے جو تیرے ولی عصرؑ کے مشتاق ہیں
الْمُذَكِّرِ بِكَ وَبِنَبِيِّكَ
جن کا ذکر تو نے اور تیرے نبیؐ نے کیا
خَلَقْتَهٗ لَنَا عِصْمَةً وَمَلَاذًا
تو نے انہیں ہماری جائے پناہ بنایا، ہمارا سہارا قرار دیا
وَاَقَمْتَهٗ لَنَا قِوَامًا وَمَعَاذًا
ان کو ہماری زندگی کا ذریعہ اور پناہ گاہ بنایا
وَجَعَلْتَهٗ لِلْمُؤْمِنِيْنَ مِنَّا اِمَامًا
اور ان کو ہم میں سے مومنوں کا امام قرار دی
فَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِيَّةً وَسَلَامًا
پس ان کو ہمارا درود و سلام پہنچا
وَزِدْنَا بِذٰلِكَ يَارَبِّ اِكْرَامًا
اور اے پروردگار ان کے ذریعے ہماری عزت میں اضافہ فرما
وَاجْعَلْ مُسْتَقَرَّهُ لَنَا مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا
ان کی قرار گاہ کو ہماری قرار گاہ اور ٹھکانہ بنا دے
وَاَتْمِمْ نِعْمَتَكَ بِتَقْدِيْمِكَ اِيَّاهُ اَمَامَنَا
ہم پر ان کی امامت کے ذریعے ہمارے لیے اپنی نعمت پوری فرما
حَتّٰي تُوْرِدَنَا جِنَانَكَ وَمُرَافَقَةَ الشُّهَدَاءِ مِنْ خُلَصَائِكَ
یہاں تک کہ وہ ہمیں تیری جنت میں ان شہیدوں کے پاس لے جائیں گے جو مقرب خاص ہیں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰي مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
اے معبود! محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَصَلِّ عَلٰي مُحَمَّدٍ جَدِّهِ وَرَسُوْلِكَ السَّيِّدِ الْاَكْبَرِ
اور امام مہدیؑ کے نانا محمدؐ پر رحمت فرما جو تیرے رسول اور عظیم سردار ہیں
وَعَلٰي اَبِيْهِ السَّيِّدِ الْاَصْغَرِ
اور مہدیؑ کے والد پر رحمت کر جو چھوٹے سردار ہیں
وَجَدَّتِهِ الصِّدِّيْقَةِ الْكُبْرٰي فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ
ان کی دادی صدیقۂ کبری فاطمہؑ بنت محمد پر رحمت فرما
وَعَلٰي مَنِ اصْطَفَيْتَ مِنْ اٰبَائِهِ الْبَرَرَةِ
ان سب پر رحمت فرما جن کو تو نے ان کے نیک بزرگوں میں سے چنا
وَعَلَيْهِ اَفْضَلَ وَاَكْمَلَ وَاَتَمَّ وَاَدْوَمَ
اور القائم پر رحمت فرما بہترین، کامل، پوری ہمیشہ ہمیشہ
وَاَكْثَرَ وَاَوْفَرَ مَا صَلَّيْتَ عَلٰي اَحَدٍ مِنْ اَصْفِيَائِكَ
بہت سی، بہت زیادہ جو رحمت کی ہو تو نے اپنے برگزیدوں میں سے کسی پر
وَخِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ
اور مخلوق میں سے اپنے پسند کردہ پر
وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلَاةً لَا غَايَةَ لِعَدَدِهَا
اور اس پر درود بھیج وہ درود جس کا شمار نہ ہو سکے
وَلَا نِهَايَةَ لِمَدَدِهَا وَلَا نَفَادَ لِاَمَدِهَا
جس کی مدت ختم نہ ہو اور جو کبھی منقطع نہ ہو
اَللّٰهُمَّ وَاَقِمْ بِهِ الْحَقَّ وَاَدْحِضْ بِهِ الْبَاطِلَ
اے معبود! ان کے ذریعے حق کو قائم فرما، ان کے ہاتھوں باطل کو مٹا دے
وَاَدِلْ بِهٖ اَوْلِيَائَكَ وَاَذْلِلْ بِهٖ اَعْدَائَكَ
ان کے وجود سے اپنے دوستوں کو عزت دے ان کے ذریعے اپنے دشمنوں کو ذلت دے
وَصِلِ اللّٰهُمَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَهٗ
اور اے معبود ہمیں اور ان کو اکٹھے کر دے
وُصْلَةً تُؤَدِّيْ اِلٰي مُرَافَقَةِ سَلَفِهٖ
ایسا اکٹھا کہ جو ہم کو ان کے پہلے بزرگوں تک پہنچائے
وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَاْخُذُ بِحُجْزَتِهِمْ
اور ہمیں ان میں قرار دے جنہوں نے ان کا دامن پکڑا ہے
وَيَمْكُثُ فِيْ ظِلِّهِمْ
ہمیں ان کے زیر سایہ رکھ
وَاَعِنَّا عَلٰي تَاْدِيَةِ حُقُوْقِهٖ اِلَيْهِ
ان کے حقوق ادا کرنے میں ہماری مدد فرما
وَالْاِجْتِهَادِ فِيْ طَاعَتِهٖ وَاجْتِنَابِ مَعْصِيَتِهٖ
ان کی فرمانبرداری میں کوشاں بنا دے، ان کی نافرمانی سے بچائے رکھ،
وَامْنُنْ عَلَيْنَا بِرِضَاهُ
ان کی خوشنودی سے ہم پر احسان کر
وَهَبْ لَنَا رَاْفَتَهٗ وَرَحْمَتَهٗ وَدُعَائَهٗ وَخَيْرَهٗ
اور ہمیں ان کی محبت عطا فرما، ان کی رحمت، ان کی دعا اور ان کی برکت عطا فرما
مَا نَنَالُ بِهٖ سَعَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَفَوْزًا عِنْدَكَ
جس کے ذریعے ہم تیری وسیع رحمت اور تیرے ہاں کامیابی حاصل کریں
وَاجْعَلْ صَلَاتَنَا بِهٖ مَقْبُوْلَةً وَذُنُوْبَنَا بِهٖ مَغْفُوْرَةً
ان کے ذریعے ہماری نماز قبول فرما، ان کے وسیلے ہمارے گناہ بخش دے
وَدُعَائَنَا بِهٖ مُسْتَجَابًا
ان کے واسطے سے ہماری دعا منظور فرما
وَاجْعَلْ اَرْزَاقَنَا بِهٖ مَبْسُوْطَةً
اور ان کے ذریعے سے ہماری روزیاں فراخ کر دے
وَهُمُوْمَنَا بِهٖ مَكْفِيَّةً وَحَوَائِجَنَا بِهٖ مَقْضِيَّةً
ہماری پریشانیاں دور فرما اور ان کے وسیلے سے ہماری حاجات کو پورا فرما
وَاَقْبِلْ اِلَيْنَا بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ
اور توجہ کر ہماری طرف اپنی ذات کریم کے واسطے سے
وَاقْبَلْ تَقَرُّبَنَا اِلَيْكَ وَانْظُرْ اِلَيْنَا نَظْرَةً رَحِيْمَةً
اور قبول فرما اپنی بار گاہ میں ہماری حاضری ہماری طرف نظر کر مہربانی کی نظر
نَسْتَكْمِلُ بِهَا الْكَرَامَةَ عِنْدَكَ
کہ جس سے تیری درگاہ میں ہماری عزت بڑھ جائے
ثُمَّ لَا تَصْرِفْهَا عَنَّا بِجُوْدِكَ
پھر اپنے کرم کی وجہ سے وہ نظر ہم سے نہ ہٹا
وَاسْقِنَا مِنْ حَوْضِ جَدِّهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ
ہمیں القائمؑ کے نانا کے حوض سے سیراب فرما، ان پر اور ان کی آلؑ پر خدا کی رحمت ہو
بِكَاْسِهٖ وَبِيَدِهٖ رَيًّا رَوِيًّا هَنِيْئًا سَائِغًا
ان کے جام سے ان کے ہاتھ سے سیر و سیراب کر جس میں مزہ آئے
لَا ظَمَأَ بَعْدَهٗ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
اور پھر پیاس نہ لگے اے سب سے زیادہ رحم والے
❁❁❁

sponsors

Post Top Ad

Responsive Ads Here