Nahjul Balagha Urdu

Nahjul Balagha Urdu
مکمل نہج البلاغہ کے لیے وزٹ کریں http://nahjulbalaghaurdu.com .

Tuesday, May 24, 2016

Nahjul Balagha Kalma

Nahjul Balagha Kalma

Nahjul Balagha Kalma 386

جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔(جونیدہ یا بندہ )

Nahjul Balagha Kalma 386

جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔(جونیدہ یا بندہ )

Nahjul Balagha Kalma 385

اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔

Nahjul Balagha Kalma 384

دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھا نا ہے۔اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کرلینا عجز و کمزور ی ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 383

اس بات سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہیں اپنی معصیت کے وقت موجود اور اپنی اطاعت کے وقت غیر حاضر پائے تو تمہارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوگا۔جب قوی ودانا ثابت ہونا ہو تو اللہ کی اطاعت پر اپنی قو ت دکھاؤاور کمزور بننا ہو تواس کی معصیت سے کمزوری دکھاؤ۔

Nahjul Balagha Kalma 382

جو نہیں جانتے اسے نہ کہو ‘بلکہ جوجانتے ہو وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔

Nahjul Balagha Kalma 381

کلام تمہارے قید وبند میں ہے جب تک تم نے اسے کہانہیں ہے اور جب کہہ دیا ‘تو تم اس کی قیدوبند میں ہو۔لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے سونے چاندی کی کرتے ہو کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی بڑی نعمت کو چھین لیتی اور مصیبت کو نازل کردیتی ہیں۔

Nahjul Balagha Kalma 380

بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اورآخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپاہوتا ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 379

رزق دو2طرح کا ہوتا ہے۔ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو اور ایک وہ جوتمہاری جستجو میں ہے۔اگر تم اس تک نہ پہنچ سکوگے تو وہ تم تک پہنچ کررہے گا۔ لہٰذ ا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔جوہر دن کارزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہےتو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگارتمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہوچکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہوگی۔

(سید رضی فرماتے ہیں کہ )یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھااس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گز رچکا ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 385

اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔

Nahjul Balagha Kalma 384

دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھا نا ہے۔اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کرلینا عجز و کمزور ی ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 383

اس بات سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہیں اپنی معصیت کے وقت موجود اور اپنی اطاعت کے وقت غیر حاضر پائے تو تمہارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوگا۔جب قوی ودانا ثابت ہونا ہو تو اللہ کی اطاعت پر اپنی قو ت دکھاؤاور کمزور بننا ہو تواس کی معصیت سے کمزوری دکھاؤ۔

Nahjul Balagha Kalma 382

جو نہیں جانتے اسے نہ کہو ‘بلکہ جوجانتے ہو وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔

Nahjul Balagha Kalma 381

کلام تمہارے قید وبند میں ہے جب تک تم نے اسے کہانہیں ہے اور جب کہہ دیا ‘تو تم اس کی قیدوبند میں ہو۔لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے سونے چاندی کی کرتے ہو کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی بڑی نعمت کو چھین لیتی اور مصیبت کو نازل کردیتی ہیں۔

Nahjul Balagha Kalma 380

بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اورآخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپاہوتا ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 379

رزق دو2طرح کا ہوتا ہے۔ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو اور ایک وہ جوتمہاری جستجو میں ہے۔اگر تم اس تک نہ پہنچ سکوگے تو وہ تم تک پہنچ کررہے گا۔ لہٰذ ا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔جوہر دن کارزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہےتو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگارتمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہوچکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہوگی۔

(سید رضی فرماتے ہیں کہ )یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھااس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گز رچکا ہے۔

Wednesday, May 18, 2016

Nahjul Balagha Kalma 378

رزق دو2طرح کا ہوتا ہے۔ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو ‘اور ایک وہ جوتمہاری جستجو میں ہے۔اگر تم اس تک نہ پہنچ سکوگے تو وہ تم تک پہنچ کررہے گا۔لہٰذ ا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔جوہر دن کارزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہےتو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگارتمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہوچکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہوگی۔

(سید رضی فرماتے ہیں کہ )یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہوچکا ہے۔مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھااس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گز رچکا ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 378

رزق دو2طرح کا ہوتا ہے۔ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو ‘اور ایک وہ جوتمہاری جستجو میں ہے۔اگر تم اس تک نہ پہنچ سکوگے تو وہ تم تک پہنچ کررہے گا۔لہٰذ ا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔جوہر دن کارزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہےتو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگارتمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہوچکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہوگی۔

(سید رضی فرماتے ہیں کہ )یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہوچکا ہے۔مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھااس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گز رچکا ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 377

اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہوجاؤ۔کیونکہ اللہ سبحانہ  کا ارشاد ہے کہ ”گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہوبیٹھے ہیں “ اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤکیونکہ ارشاد الہی ہے کہ ”خد اکی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اورناامید نہیں ہوتا “۔

Nahjul Balagha Kalma 376

حق گراں مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکامگر وبا پید اکرنے والا ہوتا ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 377

اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہوجاؤ۔کیونکہ اللہ سبحانہ  کا ارشاد ہے کہ ”گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہوبیٹھے ہیں “ اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤکیونکہ ارشاد الہی ہے کہ ”خد اکی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اورناامید نہیں ہوتا “۔

Nahjul Balagha Kalma 376

حق گراں مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکامگر وبا پید اکرنے والا ہوتا ہے۔

Tuesday, May 17, 2016

Nahjul Balagha Kalma 375

ابو جحیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امیر المومنین علیہ السّلام کو فرماتے سنا کہ:

پہلا جہاد کہ جس سے تم مغلوب ہو جاؤگے ‘ہاتھ کا جہاد ہے۔پھر زبان کا ‘پھر دل کا جس نے د ل سے بھلائی کو اچھائی اور برائی کو بر ا نہ سمجھا ‘اسے الٹ پلٹ کر دیا جائے گا۔اس طرح کہ اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردیا جائے گا۔

Nahjul Balagha Kalma 375

ابو جحیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امیر المومنین علیہ السّلام کو فرماتے سنا کہ:

پہلا جہاد کہ جس سے تم مغلوب ہو جاؤگے ‘ہاتھ کا جہاد ہے۔پھر زبان کا ‘پھر دل کا جس نے د ل سے بھلائی کو اچھائی اور برائی کو بر ا نہ سمجھا ‘اسے الٹ پلٹ کر دیا جائے گا۔اس طرح کہ اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردیا جائے گا۔

Nahjul Balagha Kalma 374

اسی انداز پرحضرتؑ کاایک یہ کلام ہے لوگوں میں سے ایک وہ ہے جو برائی کو ہاتھ ‘زبان او ر دل سے برا سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اچھی خصلتوں کو پورے طور پر حاصل کر لیا ہے اور ایک وہ ہے جو زبان اور دل سے براسمجھتا ہے لیکن ہاتھ سے اسے نہیں مٹاتا تو اس نے اچھی خصلتوں میں سے دوخصلتوں سے ربط رکھا اور ایک خصلت کو رائیگا ں کر دیا اور ایک وہ ہے جو دل سے بر ا سمجھتا ہے لیکن اسے مٹانے کے لیے ہاتھ اور زبان کسی سے کام نہیں لیتا اس نے تین خصلتوں میں سے دوعمدہ خصلتوں کو ضائع کردیا ‘اور صرف ایک سے وابستہ رہا اور ایک وہ ہے جو نہ زبان سے ‘نہ ہاتھ سے اور نہ دل سے برائی کی روک تھا م کرتا ہے ‘یہ زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی )لاش ہے۔

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمام اعمال خیر اور جہاد فی سبیل اللہ ‘امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسے ہیں ‘جیسے گہرے دریا میں لعاب دہن کے ریزے ہوں یہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایسا نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے موت قبل از وقت آجائے ‘یا رزق معین میں کمی ہوجائے اور ان سب سے بہتر وہ حق بات ہے جو کسی جابر حکمرا ن کے سامنے کہی جائے۔

Nahjul Balagha Kalma 373

ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔

اے اہل ایمان !جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے‘ تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے )بری ہوگیا اور جوزبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پالیا اور سیدھے راستے پر ہولیا او راس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔

Nahjul Balagha Kalma 374

اسی انداز پرحضرتؑ کاایک یہ کلام ہے لوگوں میں سے ایک وہ ہے جو برائی کو ہاتھ ‘زبان او ر دل سے برا سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اچھی خصلتوں کو پورے طور پر حاصل کر لیا ہے اور ایک وہ ہے جو زبان اور دل سے براسمجھتا ہے لیکن ہاتھ سے اسے نہیں مٹاتا تو اس نے اچھی خصلتوں میں سے دوخصلتوں سے ربط رکھا اور ایک خصلت کو رائیگا ں کر دیا اور ایک وہ ہے جو دل سے بر ا سمجھتا ہے لیکن اسے مٹانے کے لیے ہاتھ اور زبان کسی سے کام نہیں لیتا اس نے تین خصلتوں میں سے دوعمدہ خصلتوں کو ضائع کردیا ‘اور صرف ایک سے وابستہ رہا اور ایک وہ ہے جو نہ زبان سے ‘نہ ہاتھ سے اور نہ دل سے برائی کی روک تھا م کرتا ہے ‘یہ زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی )لاش ہے۔

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمام اعمال خیر اور جہاد فی سبیل اللہ ‘امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسے ہیں ‘جیسے گہرے دریا میں لعاب دہن کے ریزے ہوں یہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایسا نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے موت قبل از وقت آجائے ‘یا رزق معین میں کمی ہوجائے اور ان سب سے بہتر وہ حق بات ہے جو کسی جابر حکمرا ن کے سامنے کہی جائے۔

Nahjul Balagha Kalma 373

ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔

اے اہل ایمان !جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے‘ تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے )بری ہوگیا اور جوزبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پالیا اور سیدھے راستے پر ہولیا او راس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔

Thursday, May 12, 2016

Nahjul Balagha Kalma 372

جابر ابن عبداللہ انصار ی سے فرمایا اے جابر!چارقسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے عالم جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو–جاہل جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو– سخی جودادو دہش میں بخل نہ کرتا ہو اور فقیر جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گاتوجاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کر ے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔

Nahjul Balagha Kalma 372

جابر ابن عبداللہ انصار ی سے فرمایا اے جابر!چارقسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے عالم جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو–جاہل جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو– سخی جودادو دہش میں بخل نہ کرتا ہو اور فقیر جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گاتوجاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کر ے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔

Nahjul Balagha Kalma 371

کوئی شرف اسلام سے بلندتر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں ‘کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں ‘کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کرکامیاب نہیں ‘کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والانہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کرفقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔جوشخص قدر حاجت پر اکتفا کرلیتا ہے وہ آسائش و راحت پالیتا ہے۔اورآرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔خواہش و رغبت ‘رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے۔حرص ‘تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکا ت ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 370

جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلما ت نہ فرمائیں۔

اے لوگو!اللہ سے ڈروکیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیاگیا کہ وہ کھیل کود میں پڑجائے اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہے۔کہ بیہودگیا ں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کرلیا ہو۔

Nahjul Balagha Kalma 369

لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش او ر اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا ‘اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحا ظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے ‘وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہو ںگے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا ‘ا سےانہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جوقدم پیچھے ہٹائے گا ‘ا سے دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ارشاد الہی ہے کہ ”مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیرا ن و سر گردان چھوڑ دوں گا “۔

چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا ‘ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔

Nahjul Balagha Kalma 368

اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پرثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کوعذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیرکرلے جائے۔

Nahjul Balagha Kalma 371

کوئی شرف اسلام سے بلندتر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں ‘کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں ‘کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کرکامیاب نہیں ‘کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والانہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کرفقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔جوشخص قدر حاجت پر اکتفا کرلیتا ہے وہ آسائش و راحت پالیتا ہے۔اورآرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔خواہش و رغبت ‘رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے۔حرص ‘تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکا ت ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 370

جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلما ت نہ فرمائیں۔

اے لوگو!اللہ سے ڈروکیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیاگیا کہ وہ کھیل کود میں پڑجائے اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہے۔کہ بیہودگیا ں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کرلیا ہو۔

Nahjul Balagha Kalma 369

لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش او ر اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا ‘اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحا ظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے ‘وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہو ںگے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا ‘ا سےانہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جوقدم پیچھے ہٹائے گا ‘ا سے دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ارشاد الہی ہے کہ ”مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیرا ن و سر گردان چھوڑ دوں گا “۔

چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا ‘ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔

Nahjul Balagha Kalma 368

اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پرثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کوعذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیرکرلے جائے۔

Tuesday, May 3, 2016

Nahjul Balagha Kalma 367

اے لوگو!دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پید ا کرنے والاہے۔لہٰذ ا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اورصرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہار ادیا گیا ہے۔جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے وہ انجام کا ر اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلاگھونٹاجانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کافنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بند وں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہوجاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتاہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہوگیا ہے توپھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہوگیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پرغم بھی ہوتاہے۔یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔

Nahjul Balagha Kalma 367

اے لوگو!دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پید ا کرنے والاہے۔لہٰذ ا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اورصرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہار ادیا گیا ہے۔جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے وہ انجام کا ر اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلاگھونٹاجانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کافنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بند وں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہوجاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتاہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہوگیا ہے توپھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہوگیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پرغم بھی ہوتاہے۔یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔

Nahjul Balagha Kalma 366

علم عمل سے وابستہ ہےلہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتاہے۔اگروہ لبیک کہتا ہے تو بہتر ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 366

علم عمل سے وابستہ ہےلہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتاہے۔اگروہ لبیک کہتا ہے تو بہتر ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔

Monday, May 2, 2016

Nahjul Balagha Kalma 365

فکر ایک روشن آئینہ ہے ‘ عبر ت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے ‘ نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔

Nahjul Balagha Kalma 365

فکر ایک روشن آئینہ ہے ‘ عبر ت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے ‘ نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔

Sunday, May 1, 2016

Nahjul Balagha Kalma 364

جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرواس لیے کہ جو ہے وہی تمہارے لیے کافی ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 364

جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرواس لیے کہ جو ہے وہی تمہارے لیے کافی ہے۔

Nahjul Balagha Kalma 363

امکان پیداہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔

Nahjul Balagha Kalma 362

جسے اپنی آبرو عزیز ہو وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔

Recent Posts

Blogger Widgets

Connect With Us

Banner

Labels

Popular Posts

Search

Loading...

About